انسانی اسکن کے ذریعے کورونا کا سرایت کرنا ناممکن، ڈاکٹرز


کراچی: جب سے کورونا وائرس کی وبا پھیلی ہے اس وقت سے طرح طرح کی باتیں سننے میں آرہی ہیں اور اس وبا کے حوالے سے جتنے منہ اتنی باتیں سامنے آرہی ہیں اور لوگوں میں بہت سے غلط فہمیاں پائی جاتی ہیںکورونا کیا ہے؟ اور اس سے کیسے بچاجاسکتا ہے؟ اوراس حوالے سے دیگر معلومات دینے کے لیے ایکسپیریس نے عوامی سروے کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آخر لوگ جاننا کیا چاہتے ہیں؟ اور اس پھر ان سوالوں کو ماہرین صحت کے سامنے رکھا ہے۔
سوال: کورونا وائرس کپڑوں پر کتنی دیر تک رہتا ہے؟ کیا یہ انسانی بالوں پر بھی زندہ رہ سکتا ہے اور کیا یہ انسانی جسم میں سرایت کرسکتا ہے؟ جواب: جامعہ کراچی کے ادارہ برائے وبائی امراض کے ڈاکٹر محمد راشد کا کہنا تھا کہ انسانی بالوں یا کھال یعنی اسکن کے ذریعے اس وائرس کا سرایت کرنا ناممکن ہے، یہ صرف اور صرف منہ، ناک یا آنکھوں کے ذریعے ہی انسانی جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔ اگر وائرس آپ کے بالوں یا کپڑوں پر موجود ہے تو بھی آپ محفوظ ہیں جب تک آپ اسے چھو نہیں لیتے اور اس کے بعد ہاتھ دھوئے بغیر آپ اپنے ناک، منہ یا آنکھوں نہ چھو لیں۔
جہاں تک سوال ہے کپڑوں پر وائرس کی موجودگی کا تو اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس ریشمی کپڑوں پر زیادہ دنوں تک رہ سکتا ہے جبکہ کاٹن یا پولیسٹر وغیرہ پر یہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہتا۔ یہ وائرس سخت اور چمکدار اشیا یا سطحوں پر 72گھنٹوں یعنی تین دنوں تک رہ سکتا ہے۔
اسی حوالے سے مائیکرو بائیولوجسٹ ڈاکٹر صدف اکبر نے بتایا کہ اس بارے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، جو کپڑے آپ پہن کر باہر گئے ہوں انہیں گھر واپس آنے کے بعد فوری طور پر دھو ڈالیں اور شاور لے لیں لیکن احتیاط کریں کہ نہانے اور کپڑے تبدیل کرنے سے قبل گھر میں کسی فرنیچر وغیرہ پرنہ بیٹھیں۔ڈاکٹر راشد کا کہنا تھا کہ کوشش کریں کہ جب گھر سے باہر جائیں تو کم سے کم اشیا اپنے ہمراہ لے کر جائیں بلکہ بہترین بات تو یہ ہوگی کہ آپ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ لے کر جائیں بجائے اس کے کہ پیسے اپنے پرس یا والٹ وغیرہ میں رکھیں کیونکہ اس صورت میں گھر واپسی پر آپ کو زیادہ اشیا کی صفائی کی ضرورت ہوگی۔ جہاں تک بات جوتوں کی ہے تو اگر تو وہ دھوئے جاسکتے ہوں تو انہیں دھو لیں۔ اگر ممکن ہو تو گھر سے باہر اور گھر کے اندر پہننے کے لیے جوتے علیحدہ رکھ لیں۔
سوال: کیا گھر سے باہر جاتے وقت ماسک اور دستانوں کا استعمال ضروری ہے یا خطرناک؟ کیا ماسک اور دستانوں کو دوبارہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے؟ یا انہیں ایک بار استعال کے بعد ضائع کردیا جائے؟ جواب: ڈاکٹر صدف نے اس بارے میں بتایا کہ یہ سمجھنا خطرناک ہے کہ ماسک اور دستانوں کے ذریعے ہمیں وائرس سے مکمل تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔ اسے اس طرح سمجھیے کہ دستانوں کے ساتھ یا دستانوں کے بغیر آپ بار بار ایک سطح کو چھوتے ہیں جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے اور اگر اس کے بعد اس کے بعد اپنے منہ کو چھوتے ہیں تو بھی اس کے بعد آپ کو انفیکشن لگنے کا خطرہ ہوتا ہے لہذا بہتر بات یہی ہے کہ اپنے ہاتھوں کو دھولیں اور اپنے منہ کو چھونے سے گریز کریں۔بہترین کام تو یہ ہے کہ سبزیوں اور پھلوں کو کھانے والے سوڈے کے ذریعے دھولیا جائے اگر تو ان کا چھلکا الگ کرکے انہیں کھایا جاتا ہے لیکن جو پھل اور سبزیاں براہ راست کھالی جاتی ہیں انہیں صرف پانی سے دھولینا بھی کافی ہے۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی، لاڑکانہ کی وائس چانسلر ڈاکٹر انیلا عطا الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں لوگوں کی عادت ہے کہ وہ جب پھل یا سبزیاں وغیرہ خریدنے جاتے ہیں تو بلاوجہ انہیں ہاتھوں یں لے کر دیکھتے ہیں اور بھاؤ تاؤ کرتے ہیں اس عمل سے اجتناب کیا جانا چاہئے۔ڈاکٹر انیلا کا کہنا تھا کہ بطور ایک ماہر وبائی امراض میں یہ کہوں کہ زیادہ تر پاکستانیوں کی قوت مدافعت بہت کمزور ہے اور اس بات کے خدشات ہیں کہ مئی کے اختتام تک ملک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا اور کمزور قوت مدافعت کی وجہ سے بیشتر پاکستانی خطرات کی زد میں ہوں گے۔


Post a Comment

0 Comments